One day with Anwar Ghazi by Zahid Maqbool

ایک دن انور غازی کے ساتھ

✍ زاہد مقبول
علوم کے سمندر کے غوطہ خور
فھم و فراست کے شاہسوار ملک کے مشہور و معروف صحافی کالم نگار مصنف موٹیویشنل اسپیکر عطاء الحق قاسمی کی زبانی نوجوان بابا استاد محترم جناب انور غازی صاحب سے جامعتہ الرشید میں مفصل ملاقات ہوئی رخصت کرتے وقت 3کتابیں تحفے میں دی محبت کے انداز میں فرمایا کے یہ طہ قریشی کی کتاب ہے آپکے لیے ہی اسپیشل خریدی ہے میں نے اس پر لکھ بھی دیا ہے. دوسری کتاب مناجات مقبول پکڑاتے ہوئے نصیحت فرمائی کے اس میں منزل ہے روزانہ اسکو پڑھنے کا معمول بنائیں میں خود اور میرے بچے اسکو پڑھتے ہیں،تیسری کتاب شہزادے کی کہانی جوکہ غازی صاحب کی تصنیف ہے تحفہ میں دی ۔۔۔ دلی شکریہ کے ساتھ پر خلوص ہدیہ ہمیشہ دل کی دھڑکنوں میں بسا رہے گا۔ ہدیہ دینے اور لینے کی بہت فضیلت ہے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور تحفہ دیا بھی کرتے تھے۔“ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو۔ اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔“ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے بکری کا کُھر بھی ہدیہ دیا جائے تو میں قبول کروں گا۔“ ان احادیث اور روایات سے تحفہ دینے اور لینے کی واضح فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ تحفوں کے تبادلے سے باہمی محبت و اُلفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تحفے دینے اور تحفے وصول کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے اور ہدیہ کتاب کی صورت میں ہو تو کیا ہی کہنے ۔۔۔سونے تے سھاگہ۔۔۔ محبت کو چار چاند لگ جاتے ہیں. کتاب کا مطالعہ حقیقت میں صاحب کتاب سے ہم کلام ہونا ہے دیگر اور چیزوں کی طرح تحفے دینے اور لینے کے بھی آداب ہیں غازی صاحب تحفہ دینے کے آداب سے بخوبی واقف ہیں
ان آداب کی رعایت کو مد نظر رکھنا ہم سب پر لازم ہے…..
ملاقات کا اصل مغز تو باقی ہے مصروفیت کافی چل رہی ان دنوں کاروباری میٹنگ شادیوں کے ںسفر در سفر ۔۔ استاد جی کے حکم کے مطابق روزانہ پڑھنا اور لکھنا ہے لازم کرو خود پر ۔۔۔۔۔
جاری ہے
بورے والا سے مظفرگڑھ کی طرف کزن کی بارات سے واپسی ملتان کے قرب و جوار میں میرے محسن و مشفق دل کے بہت ہی قریب استاد جی غازی صاحب کی کتاب
شہزادے کی کہانی
کے کچھ اوراق کو پڑھا تو چند سطور لکھ چھوڑی ۔۔۔۔
میرے مالک قدم قدم سلامت رکھنا میرے استاد محترم کو ایسا رہبر و مخلص زندگی میں ہر کسی کو نہیں ملا کرتا

Be the first to comment on "One day with Anwar Ghazi by Zahid Maqbool"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*