16۔۔دسمبر پھر آگیا یاد آگیا آجڑا چمن

16۔۔دسمبر پھر آگیا

یاد آگیا
آجڑا چمن
شیخ اعجاز احمد رضا

پھول دیکھے تھے جنازوں پہ ہمیشہ شوکت
کل میری آنکھوں نے پھولوں کے جنازے دیکھے
سانحہ ارمی پبلک سکول پشاور
جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی
جہاں ہر ماں سوگوار تھی
جہاں ہر باپ افسردہ تھا
وہاں قوم یک زبان اور متحد تھی
بچے سے لے جوان اور بوڑھے تک
ماوں بہنوں بیٹیوں تک
ایک ھی بڑا مطالبہ تھا کہ

دہشت گردوں کے خلاف بڑا ایکشن کیا جاے
درندہ صفت انسانوں کو کچل دیا جاے
فوج ۔۔عدلیہ۔۔۔حکومت۔۔پولیس۔۔سکیورٹی ادارے ایک پیج پر تھے
آب نہیں تو کبھی نہیں کی پالیسی پر متفق تھے
بڑوں نے بڑے فیصلے کرنے کے لیے سر جوڑ لیے تھے
ملک کو امن کا گہوارہ بنانے اور
دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے
نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا
بہت کامیابیاں حاصل ھوئی
20 نکات پر عملدرامد کروانا تھا
میری ارباب اختیار سے درخواست ھے کہ جن نکات پر ابھی تک عمل نہیں ھوسکا کروایا جاے
سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں
کی سکیورٹی سخت بناے کے احکامات جاری فرماے جائیں
جہاں سیفٹی الات کی کمی ھے پوری کی جاے
شہدا کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا جاے
مدرسہ اور پولیس ریفامز کی جائیں
فرقہ وارانہ تقاریر
کفر اور قتل کےفتوے دینے والو کو انجام تک پہنچایا جاے
توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
توہین انبیاء علیہ اسلام
توہین اہلبیت ۔۔۔توہین صحابہ
رضوان اللہ علیہم
کی پاسداری ھونی چاہیے
سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں

جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
سنتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ھو گا
یا اللہ
اسلام۔اور۔پاکستان کے شہدا کے درجات بلند اور ان کی مغفرت فرما
آن کے خاندان کو صبر جمیل عطا کر
ملک پاکستان اور اسکے محافظوں کو اپنی پناہ میں رکھنا امین
جزاکم اللہ خیر
شیخ اعجاز احمد رضا

Be the first to comment on "16۔۔دسمبر پھر آگیا یاد آگیا آجڑا چمن"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*