پاکستان پیپلز پارٹی: 5 جولائی کوبھلا دیا گیا


پاکستان پیپلز پارٹی: 5 جولائی کوبھلا دیا گیا!

علی احمد ڈھلوں 

پچھلے ہفتے 5جولائی(پیپلزپارٹی کا ’یوم سیاہ‘) انتہائی خاموشی اور ”عقیدت“کے ساتھ گزرگیا۔ یہ نظراندازی ، بے حسی اورنام نہاد عقیدت آج تک کسی نے نہیں دیکھی۔ حالانکہ بے نظیر جب تک زندہ تھیں اس دن کو کسی نہ کسی طرح سے یاد رکھا جاتا، تقریبات منعقد کی جاتیں اور مذمتی قراردادیں منظور کی جاتیںلیکن آج کل پیپلزپارٹی کی ”نظریاتی“ قیادت نے اس دن کو یوں نظر انداز کیا ہوا ہے جیسے وہ جانتے ہی نہ ہوں کہ یہ وہ دن ہے جب 41سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو 1977ءکو ایک فوجی آمر، جنرل ضیاءالحق نے شب خون مار کر عوام کے منتخب وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کو ختم کر کے ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا تھا اور دس سال تک سیاہ و سفید کا مالک بن کر سیاسی ورکروں کی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لیے آخری حد تک ظلم و ستم کرتا رہا۔ اس آمر نے نام نہاد ریفرنڈم کرایا اور عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے اسلام کا نعرہ لگاتا رہا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنماﺅں اور کارکنوں کو کچلتا رہا، ان کو نام نہاد مقدمات کے تحت عمر قید اور موت کی سزائیں دی گئیں، حتیٰ کہ ایک نام نہاد مقدمہ کے ذریعے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایک عرصے تک جیل میں رکھ کر ایک عدالتی فیصلہ کے تحت 4 اپریل 1979ءکو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

آج کی پیپلزپارٹی نے شاید یہ سب کچھ بھلا دیا ہو مگرساڑھے 4ہزار شہید جیالے، 18ہزار قیدی جیالے اور لاکھوں کی تعداد میں کوڑے کھانے والے پیپلز پارٹی کے عام کارکن آج تک اس دن کو نہ بھلا سکے۔ آج کی پیپلزپارٹی کے رہنماءاپنی پارٹی کی سالگراﺅں اور برسیوں پر خوب تشہیر کرتی ہے جس میں شخصیت پرستی اور کیک کی بے حرمتی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مگر ان تقریبات میں سے ایک تقریب جو خاص طور پر اُن جیالوں کی یاد دلاتی تھی جو بھٹو کی ایک آواز پر قربان ہوگئے، جو جیل کی صعوبتیں کاٹتے رہے ،کوڑے کھاتے رہے، قلعے کی دیواروں کے ساتھ باندھ دیے جاتے رہے۔ حقیقت میں یہی ایک پارٹی پروگرام ”سیاسی“ نوعیت کا ہوتا تھا۔ میں بذات خود ان قیدیوں میں شامل تھا جنہیں بارہا مرتبہ گھر سے اُٹھا کر لے جایا جاتا ۔اُنہی دنوں میرے والد مرحوم بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے ۔ ہمارے گھر پارٹی کا جھنڈا ہر وقت لگا رہتا تھا، مگر ضیاءکے مارشل لاءکے بعد 1985ءتک ہمارے گھر کی چھت پر کبھی جھنڈا لہرانے نہیں دیا گیا تھا ، جب بھی پارٹی کا جھنڈا لگایا جاتا پولیس آکراُسے اُتار دیتی …. کوئی عید، کوئی تہوار ہم اپنے گھروں میں نہیں منا سکتے تھے۔جب دل چاہتا پولیس ہمیں نظر بند کرنے کا پروانہ لے کر ہمارے گھر پہنچ جاتی تھی۔ اور ہم بھاگنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔یہ صرف ہمارے گھر میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں جہاں جہاں پیپلزپارٹی کا ورکر، کارکن، جیالا، سپورٹر، ووٹر موجود تھا سب پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے گئے تھے۔ بقول شاعر 

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں

خیر 5جولائی پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ کا تاریک دن تھا۔ ضیاءالحق نے اپنی پوری زندگی میں پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی ہر سعی کی مگر ناکام و نامراد رہا۔ تشدد اور وحشت کی بدترین مثالیں موجود ہیں مگر ان کی وجہ سے پیپلز پارٹی ٹوٹی نہ ہی کمزور ہوئی۔ اُن دنوں بھی پارٹی کو کسی نے دھوکہ دیا یا غداری کی تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن نہیں بلکہ جاگیر دار، سرمایہ دار اور حکمران طبقے کی صفوں سے پیرا شوٹ لگاکر پارٹی میں شامل ہونے والے لیڈران ہی تھے۔ تب ان کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ مگر پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کی قیادتوں نے نظریاتی طور پر ضیاءالحق کے قدموں پر ڈھیر کرکے اسکی زوال پذیری کی وہ بنیاد رکھ دی،جس کی منطقی شکل اب اپنے جوبن اور شباب پر ہے۔ پاکستا ن پیپلز پارٹی نے اپنے ابتدائی سفر میں 22خاندانوں کی دولت کی طاقت کو اپنے انقلابی نظریات سے شکست فاش دے کر سرمائے کے مقابلے میں نظریات کی طاقت کو ثابت کیا تھا۔ لیکن پھر بعد کی قیادتوں نے سوشلزم کے ان نظریات کو ہی ”پچھلی نشست“ پر بٹھا دیا، آج تو شاید گاڑی سے ہی باہر پھینک دیا ہے۔ 

نظریات سے غداری کا عمل آصف علی زرداری نے شروع نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسکی تکمیل کی ہے۔اور بلاول بھٹو زرداری جس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اُس میں قیادت کے وہ اوصاف موجود ہیں جو محترمہ بے نظیر میں یا بھٹو میں دیکھے جا سکتے تھے۔ کیا بلاول کو علم نہیں کہ اُس کے نانا نے کس طرح قربانی دی، اور ساتھ مرنے والے کارکنوں کو کون یاد کرے گا؟ بلاول آج اپنی ہر لکھی ہوئی تقریروں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے کہ وہ سب سے بڑا نظریاتی ہے…. کیا یہ نظریہ ہے بلاول کا ؟ کہ پارٹی کارکنوں کی قربانیوں کو بھلا دیا جائے…. کیا آج پیپلزپارٹی کے انتشار کی وجہ یہ نہیں کہ اس کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو بھلا کر ”ڈیل“ کرنے والی پارٹی بنا دیاہے۔ جن نظریات نے ملک اللہ دتہ نائی کو اپنے عہد کے فرعون نما جاگیرداروں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا اور کامرانی بخشی تھی، ان کی عدم موجودگی میں پارٹی کے اندر طرح طرح کے غدار، ابن الوقت اور موقع پرست ہی قدم جما سکتے تھے۔

کیا یہ بدقسمتی نہیں ہے کہ جس پارٹی پر ریاست کے حملے ہوتے تھے جو ظلم وجبر، تشدد اور بربریت کی مثالیں قائم کرکے بالآخر ناکام ہوجاتے تھے۔ پارٹی ہر اس حملے میں سرخرو ہوئی جو مخالف سمت سے کئے گئے۔ مگر آج پارٹی پر پارٹی قیادت نے ہی ہلہ بول دیا ہے۔ یہ قیادت آج بد ترین بدعنوانی، بے حسی، لوٹ مار، ضمیرفروشی اور غداری کی بریکٹ میں لازم ہوچکی ہے۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے۔ پارٹی پر قابض قیادت کی دولت اور مستقبل بیرون ملک محفوظ ہیں مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک کروڑوں لوگوں کا مستقبل مخدوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ مگر عوام کو زندہ تو رہنا ہے! وہ اس المیے اور مایوسی سے نکلنے کی راہ بھی تلاش لیں گے۔ ان کی سیاسی روایت بھلے گل سڑ رہی ہے لیکن امیدا ور ناامیدی کا کھیل زیادہ لمبا نہیں چل سکتا۔ 

آج حالات یہ ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے گڑھ لیاری سے انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ لیاری میں عوام نے پتھراو ¿ کرکے بلاول کے قافلہ کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ یہ لوگ اپنے علاقے میں پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کررہے تھے۔ لیاری میں انتخابی مہم کا آغاز پتھراو ¿ سے ہوا۔ یوں تشدد کی بری روایت قائم ہوئی۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ پیپلز پارٹی کے پرانے چاہنے والے ہیں، مگر قیادت سے نالاں نظر آتے ہیں۔ کیا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا یہ وژن تھا؟ وہ ایک قومی لیڈر ، دوراندیش زیرک سیاستدان، مدبر راہنما اور کرشمہ ساز شخصیت تھے، انھوں نے سیاست کو سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر غریبوں اور محروموں کی دہلیز پر لا کھڑا کیا، اس تبدیلی کی بدولت بے زبان اور مظلوم عوام کو زبان ملی اور انھیں اپنے حق کے لیے لڑنے کا سلیقہ آیا، آج کا جمہوری نظام بھٹو شہید کا قوم کو تحفہ ہے، انھوں نے نہ صرف جمہوری سیاست کی بنیاد رکھی بلکہ اسے ایک قابل تقلید ، قابل عمل اور شاندار نظام بنا دیا۔مگر قیادت پر افسوس کرنے کے سوا آج میں کچھ نہیں کر سکتا۔ 

5جولائی نے سب کچھ یاد کروا دیا تو کالم لکھنے بیٹھ گیااور سوچتا رہا کہ یوم سیاہ منانے والوں میں وہ دم خم باقی نہ رہا کہ ضیاءالحق کی کردارکشی اورپیپلزپارٹی کی جدوجہد کے لیے توانائیاں خرچ سکیں۔ بھٹو کی قبر کے مجاور ہی بدل گئے۔ جن بیٹوں کو اس نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے بیٹے ہی نہیں ہوں گے جوان کا لہو نہ بہائیں” جو میرا لہو بہائیں“ گے۔ نسلاً بیٹے تواقتداراورخاندانی چھینا جھپٹی کی ایسی نذر ہوئے کہ کسی کے قاتلوں کا سراغ تک نہ مل سکا۔ شجرہ نسب کا آخری وارث ذولفقارجونیئرہاتھوں پرنیل پالش لگائے، زنانہ لباس زیب تن کئے اپنی زندگی کو پرسکون اورپرامن رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔جبکہ رہی سہی قیادت ڈیلز کے ذریعے اقتدار میں آنے کو ترجیح دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ملک میں سنجرانی قسم کا وزیر اعظم آسکتا ہے اور اس کے آنے میں ہماری معاونت کا اہم کردار ہوگا۔ 

بہرکیف ان 41 برسوں میں پیپلزپارٹی ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئی، جسکی وجوہات جو بھی ہوں مگر یہ بات تو طے ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی اربوں روپے سالگراﺅں پر خرچ کرتی ہے یہ کبھی بھی اپنے جیالوں، کارکنوں کو یاد کرنے میں اتنا پیسہ خرچ نہیں کرے گی، میرے خیال میں پیپلزپارٹی ضیاءدور کے ظلم و ستم کی تصاویر ہی کی تشہیر کردے یا اخبارات و چینلز میں اس حوالے سuے پروگرام یا پیکجز ہی چلوا دے تو پیپلزپارٹی پھر سے زندہ ہو سکتی ہے۔ آج بھٹو کے وژن کو بھوک مٹاﺅ پروگرام سے زندہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ عوام کو حقیقی وژن اور حقیقی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو ایک نظریاتی جماعت ہی دے سکتی ہے۔ #ppp

Be the first to comment on "پاکستان پیپلز پارٹی: 5 جولائی کوبھلا دیا گیا"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*