’ می ٹو‘ کی چیخیں اور سماج کی نفسیاتی تشکیل ریحان صدیق

’ می ٹو‘ کی چیخیں اور سماج کی نفسیاتی تشکیل
(ریحان صدیق)
کیا روشن خیالی کا مطلب یہی ہے کہ معاشرے کو ایک جنسی ہیجان سے دوچار کر دیا جائے اور پھر آرٹ ، کلچر اور سافٹ امیج کی چکا چوند سے ’ می ٹو‘ کی صدائیں دی جائیں؟ کیا کوئی معاشرہ بنیادی قدروں سے لاتعلق رہ کر ترقی کر سکتا ہے؟

ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ ان قباحتوں سے پاک ہوتا ہے اور یہ خرابیاں صرف مغربی تہذیب اور اس کے متاثرین معاشروں میں پائی جاتی ہیں۔جب زینب جیسی بیٹیوں پر قیامت بیت جائے تو کوئی تقدیس مشرق کی ثنا خوانی کیسے کر سکتا ہے؟لیکن اس حقیقت کے اعتراف کے باجود اگر مجھے شکوہ تہذیب جدید کے مختلف مظاہر ہے تو یہ بھی بے سبب نہیں۔اس تہذیب نے ظلم یہ کیا ہے کہ انسانی معاشروں کو کچھ بنیادی قدروں سے بے نیاز کر دیا ہے۔انسانی معاشرے اپنی اپنی روایات اور سماجی اور مذہبی قدروں کے اعتبار سے جن چیزوں کو عیب ، قباحت اور گناہ سمجھتے تھے تہذیب جدید نے انہیں آزادی ، روشن خیالی اور سافٹ امیج کا عنوان دے کر ان کے مفاہیم بدل دیے ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بارے میں سماج میں موجود حساسیت دھیرے دھیرے ختم ہوتی گئی اور غیر محسوس طریقے سے یہ قباحتیں عرف بنتی گئیں۔

پاکستانی معاشرے کو دیکھ لیجیے ۔کون کون سی قباحتیں ہمارے ہاں ’ عرف‘ کی صورت رواج پا چکیں اور ہمیں اس خرابی کا احساس تک نہیں ، یہ جاننا چاہیں تو سورہ نور کا مطالعہ کر لیجیے۔ پہلے ان اصولوں اور ہدایات کو دیکھ لیجیے جو سورہ نور میں بیان کی گئی ہیں پھر ان ہدایات کے بارے میں اپنا عمومی رویہ دیکھ لیجیے آپ کو معلوم ہو جائے گا جو میں کہہ رہا ہوں وہ بے سبب نہیں۔

کہا گیا کہ شیطان کی پیروی نہ کرو اور پھر ساتھ ہی وضاحت کر دی گئی کہ جو فحاشی ، بے حیائی اور برے کاموں کا حکم دے یعنی انہیں رائج کرنے کی کوشش کرے وہ شیطان کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورت دونوں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، جدید تہذیب یعنی روشن خیالی اس تکلف کی قائل نہیں وہ اسے دقیانوسیت تصور کرتی ہے۔اس کا مطالبہ ہے کہ نگاہیں بے باک ہونی چاہییں۔

سورہ نور کا مطالبہ ہے کہ مسلمان مرد اور عورت اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، تہذیب جدید اس تکلف کو بھی قبول نہیں کرتی اور اس کا دعوی ہے ’’ میرا جسم میری مرضی‘‘۔چنانچہ مسلمان معاشروں سے باقاعدہ یہ مطالبہ ہے کہ رضامندی سے اگر کوئی جنسی تعلقات قائم کر لے تو ان پر کوئی قدغن نہ ہو۔جب تک اس بابت کوئی تعزیر موجود ہے تب تک کسی اسلامی معاشرے کو روشن خیال معاشرہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

سوورہ نور میں تیسری ہدایت یہ ہے کہ اپنی زینت اور بناؤ سنگھار کو محرموں کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کیا جائیاور مسلمان عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔اب بناؤ سنگھار کے بغیر گھر سے نکلا جائے تو تہذیب جدید خواتین پر اپنے امکانات کے دروازے بند کر لیتی ہے۔سینوں پر اوڑھنیاں ڈالی جائیں تو بنیاد پرستی اور دقیانوسیت کے الزام کے تحت کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمدنے بتایا کہ انہوں نے ایک خاتون اینکر سے سوال کیا کہ بیٹی یہ جو دوپٹی تمہارے گلے میں ہے میں یہ تو نہیں کہتا کہ اسے سینے تک اوڑھ لو لیکن میں اپنی معلومات کے لیے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر دوپٹہ گلے میں ڈالنے کی بجائے اوڑھ لیا جائے تو ٹی وی ناظرین کے کون سے آئینی حقوق پامال ہونے کا ڈر ہے اورٹی وی کی کون سی قدریں پامال ہونے کا خطرہ ہے ؟اس سوال کا ظاہر ہے کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ یہ ایک ثقافتی یلغار ہے جس میں ہر قباحت کو غیر محسوس طریقے سے عرف بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اگر کوئی اس پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے پست فکر، جاہل گنوار اور دقیانوسی کہا جاتا ہے۔

فحاشی اور بے حیائی کے بارے میں ایک بنیادی اصول وضع کر دیا گیا ہے کہ ’’ بلاشبہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے ، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔روشن خیالی اور سافٹ امیج نے اس اصول کو ماننے سے انکاار کر دیا ۔اس کا کہنا ہے فحاشی نام کی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی۔ان کا دعوی ہے فحاشی تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہے۔فحاشی تو غریب کی غربت میں ہے ، اس طرح کے ڈھیروں اقوال زریں ہیں جو ان کے پیادوں کو یاد ہیں۔

قاضی حسین احمد مرحوم فحاشی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب سے پریشان ہو کر سپریم کورٹ پہنچے تو ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان پر طنز کے تیر اچھالے گئے۔اتنی جاندار مہم چلائی گئی ہے کہ اب اچھے خاصے معقول لوگ اپنی قدروں کا جنازہ اٹھتے دیکھ کر صرف دل ہی دل میں برا خیال کرتے ہیں اور اس خوف سے بات نہیں کرتے کہ کہیں دقیانوسیت کا طعنہ نہ سننا پڑ جائے۔کوئی اعتراض کر بھی دے تو کہ جاتا ہے تم ٹی وی مت دیکھو۔

سماج کی فکری پسپائی کا عالم یہ ہے کہ فحاشی کے خلاف جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کوئی نہیں کرتا۔ اس خوف نے لوگوں کی اکثریت کو گونگا شیطان بنا دیا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے میں اتنا تنگ نظر ہوں۔مثال کے طور پر Indecent Advertisements Prohibition Act ہے ۔ یہ اتنا سخت قانون ہے کہ فحاشی کو تو چھوڑ دیجیے ، اس میں صرف Indecent یعنی غیر شائستہ ایڈورٹزمنٹ پر چھ ماہ قید کی سزا ہے اور جرم دوبارہ کیا جائے تو سزا دگنی ہو جائے گی۔کوئی بھی آدمی اس قانون کے تحت شکایت کر سکتا ہے ۔ فیاض چوہان نے بات تو درست کی تھی کہ سینماؤں کے باہر سے بے ہودہ بورڈز ہٹا لیے جائیں کیونکہ یہاں سے صرف روشن خیالوں کے سفیروں کا گزر نہیں ہوتا یہاں سے سکولوں کے بچے اور بچیاں بھی گزرتے ہیں ۔یہ الگ بات کہ انہوں نے اچھی بات جس انداز سے کہی وہ ان کے گلے پڑ گئی اور انہیں بعد میں قومی اثاثوں میں ایک نئے قومی اثاثے کا اضافہ فرما کر جان چھڑانا پڑی۔

مذہب بنیادی طور پر تزکیہ کا کام کرتا ہے۔ یہ انسان کی تہذیب نفس کرتا ہے اور اسے ان خرابیوں سے روکتا ہے جن کی طرف انسان کا نفس مائل ہوتا ہے۔لیکن جدید تہذیب ان خرابیوں اور قباحتوں ایک کوبی سمجھ کر اختیار کرتی ہے اور پھر اس کے ملبے سے ’ می ٹو‘ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔

Be the first to comment on "’ می ٹو‘ کی چیخیں اور سماج کی نفسیاتی تشکیل ریحان صدیق"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*