منی لانڈرنگ کی سزا موت سے کم کیوں؟ علی احمد ڈھلوں

تلخیاں
منی لانڈرنگ کی سزا موت سے کم کیوں؟
علی احمد ڈھلوں
پرانے زمانے کی بات ہے کہ جب چینی تاجر ”منی لانڈرنگ“ کیا کرتے تھے۔ 2000سال قبل چینی تاجر اپنا منافع اور کاروبار(قانونی اور غیر قانونی) سرکار سے چھپا کر کسی دوسری ریاست میں منتقل کر دیتے تھے۔ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اُنہیںاپنا مال بیچ کر اُس کا دس فیصد حصہ حکومت کو دینا پڑتا تھا۔ اُس وقت کی چینی حکومت خسارے میں چلنے لگی، حکومتی عہدیداروں نے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ ملک سے سرمایہ (جو سونے ، چاندی کے سکوں کی شکل میں ہوتا تھا) باہر جا رہا ہے۔ چینی حکومت نے سخت اقدامات کیے اور کئی ایک کو سرمایہ بغیر اجازت اور وجہ کے باہر لے جانے پر موت کی سزادی گئی جس سے چین کے ہر داخلی اور خارجی راستوں پر سامان کی چیکنگ ہونے لگی اور اگر مطلوبہ تعداد سے زیادہ ”کرنسی“ برآمد ہوتی تو وہ دھر لیا جاتا۔ چین تو اس وباءسے کوسوں دور ہو گیا مگر امریکا، یورپ، ایشیاءاس کی لپیٹ میں آگئے۔ یہ چوری چلتے چلتے سیاستدانوں تک پہنچ گئی جو نت نئی چالوں اور اثر و رسوخ استعمال کرکے پیسہ ملک سے باہرلے جاتے رہے۔
پاکستان جیسے ممالک بھی اس سے شدید متاثر ہوئے۔ خانانی اینڈ کالیا(2008ئ) کا کیس کسے یاد نہیں؟یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سب سے بڑا کیس تھا جس سے منی لانڈرنگ کے بارے میں علم ہوا کہ یہ ملک میں کس قدر جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔ اسی دور میں سب سے پہلے بے نامی اکاﺅنٹس کا انکشاف ہوا اور اب بے نامی اکاﺅنٹس کی جگہ ”نامعلوم اکاﺅنٹس “نے لے لی ہے۔ یعنی اکاﺅنٹس کے نام تو ہیں مگر لوگ لاعلم ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان اکاﺅنٹس میں پیسہ کہاں سے آیا۔ یہ بے نامی اکاﺅنٹس کی نئی شکل ہے۔قلفی بیچنے والے،دہ بھلے بیچنے والے، گھریلو خاتون اور طالب علم سمیت کئی افراد کے ”نامعلوم اکاﺅنٹس“ سے کروڑوں یا اربوں روپے مل رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ”مردے“ نے بھی ٹرانزکشن کر دی ہے۔ اقبال نامی ایک شخص کی چند سال قبل موت ہو گئی تھی مگر اس نے بھی اپنے اکاﺅنٹ سے کروڑوں روپے منتقل کر دئیے ہیں۔
آگے چلنے سے پہلے تھوڑی روشنی اس بات پر بھی ڈال لینی چاہیے کہ منی لانڈرنگ کہتے کسے ہیں؟اور یہ کیوں کی جاتی ہے؟ دراصل فارن کرنسی غیر قانونی طریقوں سے باہر بھیجنے کو ”منی لانڈرنگ“ کہا جاتا ہے اور ”ہنڈی“ اور” حوالے“ سے رقم بھیجنے سے منی لانڈرنگ کو تقویت ملتی ہے۔اکثر لوگ بنکوں یا قانونی طریقوں سے ہٹ کو کسی منی ایکسچینج یا نجی کاروبار کرنے والے افراد کے ذریعے غیر ممالک سے رقم پاکستان بھیجتے ہیں۔ اس طریقے کو ہنڈی یا حوالہ کہا جاتا ہے۔اس طریقے میں ہوتا یوں ہے کہ کسی غیر ملک میں رہنے والا شخص جب رقم پاکستان بھیجنے کے لیے کسی شخص کو دیتا ہے تو وہ شخص فارن کرنسی اپنے پاس رکھ کر پاکستان میں اپنے ایجنٹ سے کہتا ہے کہ اتنی رقم اس شحص کے رشتہ دار کو دے دی جائے۔ پاکستان میں بیٹھا شخص مذکورہ رقم اس شخص کے رشتہ دار کو دے دیتا ہے۔ اس طریقے میں اکثر لوگ بلیک منی یا غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم استعمال کر لیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ یہ رقم پاکستان میں پہنچتی کیسے ہے؟ یہ رقم ایک تو اُن پاکستانیوں کے ذریعے پہنچتی ہے جو غیر ممالک میں ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو رقم بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد، انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد اور وہ کاروباری لوگ جو ٹیکس اور ڈیوٹی بچانے کے لیے دبئی اور دیگر ممالک کے ذریعے دوسرے ملک کو رقم بھیجتے ہیں اور مال پاکستان منگواتے ہیں، وہ اس میں ملوث ہوتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کو اُتنا نقصان کرپشن سے نہیں ہوتا جتنا ”منی لانڈرنگ“ سے ہوتا ہے۔ تبھی تو آج سے 2ہزار سال پہلے چینی حکومت نے اس پر قابو پایا تھا۔ اس لیے شاید مجھے یہ کہتے ہوئے خود بھی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے کہ پاکستان میں بھی اسی طرز کے قوانین بنائے جائیں، جس میں منی لانڈرنگ کی سزا موت سے کم نہ ہو۔
خیرکرپشن کا مسئلہ تو بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں بھی صف اول کا مسئلہ ہے مثلاََ کرپشن امریکا میں بھی بالکل ویسی ہی ہے جیسے پاکستان میں ہے۔وہاں پر بھی ناقص مٹیریل استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں پر بھی اسی طرح انکوائریاں ہوتی ہیں۔ آج کل میں چند دن کے لیے امریکا میں ہوں۔ یہاں بھی کئی ایک منصوبے جاری ہیں جنہیں قریب سے جانچنے کا موقع مل رہا ہے۔ لیکن اُن میں اور ہم میں فرق یہ ہے کہ وہ پیسے کی لوٹ مار کرتے ہیں تو وہ پیسہ ملک سے باہر نہیں جانے دیا جاتا، بلکہ امریکا میں ہی رہتا ہے۔ اُس سے اُن کی معیشت کو فرق نہیں پڑتا۔یعنی آپ کے پاس پیسہ ہو یا میرے پاس، رہنا تواس ملک میں ہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں کرپشن کا پیسہ لانچوں میں بھر کر، سیلیبرٹی شخصیات کے ذریعے (ایان علی کی مثال سب کے سامنے ہے) اور کئی دوسرے طریقوں سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ جس سے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین بنک اور دوسرے مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول لے کر جانا پڑتا ہے۔
حقیقت میں منی لانڈرنگ دنیا بھر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے جسے اب دہشت گردی سے منسلک کرتے ہوئے امریکہ سمیت دنیا بھر میں انتہائی سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔اور کئی ممالک اس میں کامیاب بھی ہورہے ہےں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ میں ٹاپ تھری ملکوں میں سے ہے جسکی وجہ سے 5027پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادوں کا انکشاف کیا گیاہے۔منی لانڈرنگ کے الزمات کا شور ہمارے ملک کی سیاسی فضا میں جو پندرہ بیس سال پہلے شدت سے گونجتا تھا،میثاق جمہوریت کی شرم کی وجہ سے تھم گیا، لیکن برا ہوا کہ عمران خان کی صورت میں ابھرنے والی تیسری سیا سی قوت نے کر پشن اور اور ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ میثاق جمہوریت نے زبان بندی تو کر دی ،لیکن گذشتہ تیس برسوں سے مسلسل ایک دوسرے پر کی جانے والی لفظی گولہ باری اخبارات کے صفحات پرموجود تھی سچی بات ہے کہ پاکستان کی سیا ست پر قابض رہنے والے اگر بھٹو اور شریف خاندان ایک د وسرے کا کچا چٹھا سامنے لے کر نہ آتے تو کیسے پتہ چلتا کہ ہمیں لوٹنے والے کون ہیں؟ اور پھر پانامہ نے تو سب کا ایسا سیا کچا چٹھا کھول کے سامنے رکھ دیا کہ ہر کوئی اپنی برہنگی چھپانے کیلئے ادھر ادھر بھاگ رہا ہے۔ اگر نواز شریف ہمیں نہ بتاتے تو کیسے پتہ چلتا کہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے سوئٹرز لینڈ اور دوسرے ممالک میں کالے دھن کے بینک اکاﺅنٹ ہیں اور اگر زرداری صاحب انکشاف نہ کرتے تو کیسے پتہ چلتا کہ جناب نوازشریف کے لندن، سوئٹزلینڈ اور دبئی میں اکاﺅنٹس ہیں بہت سے لوگ سوچتے ہوں گے کہ یہ منی لانڈرنگ آخر کیا بلا ہے اور یہ جو لندن، سپین، دبئی ، سوئٹرز لینڈ میںکروڑوں اربوں کی بات کی جاتی ہے اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہو گا ؟
خیر کئی دفعہ تو منی لانڈرنگ جیسی لعنت میں ملک بھی ملوث پائے جاتے ہیں جیسے منی لانڈرنگ کو تیسرے فریق کے کاروبار میں لگا کر با ضابطہ بنانے کا کام حکومتیں کیا کرتی ہیں۔ خواہ ان کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ ہو یا حریت پسند اور مجاہدوں کے نام پر نئے دہشت گرد تیار کرنا، جس طرح امریکہ اور بھارت نے حزب الاحرار اور تحریک طالبان، لشکر اسلام کو تیار کیا بلکہ اسی طرح جیسے ایران کے ذریعے نکاراگوا کے باغیوں کو امریکی اسلحہ کی خفیہ فروخت اور سودے بازی کی گئی ،جس کی بعد میں امریکی صدر ریگن نے با قاعدہ تصدیق بھی کر دی تھی۔ اس سودے بازی کے بعض پہلوﺅں پر کافی دیر پردہ پڑا رہا، لیکن یہ راز چھپا ہوا نہ رہ سکا کہ در پردہ اس میں امریکہ نے ایک عرب ملک کی مدد سے ادائیگیوںکے عوض ایران کو اسلحہ دیا اور رقم نکارا گوا کی مارکسی حکومت کے خلاف لڑنے والے کونٹرا با غیوں کو دی گئی اور یہ سب کچھ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم کیسی کی نگرانی میں ہوتا رہا۔
پاکستان میں منی لانڈرنگ روکنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن وزیر خزانہ اسد عمرکو یہ بات بھی معلوم ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے ہمارے کئی ادارے متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ لوگ انہیں جام کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ سٹاک مارکیٹ، چنانچہ بہت محتاط رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بہر صورت اس معاملے کو آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ہی ہم اپنے ملک کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔اور اگر پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو اس کی بین الاقوامی مالیاتی ساکھ کے علاوہ ملکی معیشت بھی سنگین خطرات کی زد میں آ سکتی ہے۔اور بے نامی یا نامعلوم جیسے اکاﺅنٹس بینک منیجر ز اور ڈائریکٹرز کی مرضی کے بغیر نہیں کھلتے۔ اور کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا اسٹیٹ بنک کو بھی علم ہوتا ہے۔ جس بینک سے ایسے اکاﺅنٹ نکلیں اُن کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ تاکہ منی لانڈرنگ کے مکروہ دھندے کو روکا جا سکے۔لہٰذاپہلے جو ہوا سو ہوا آئندہ اس حوالے سے سزا کی آخری حد پھانسی ہونی چاہیے، کیوں کہ یہ ایک قومی جرم ہے، یہ مکروہ دھندہ ملک کے ساتھ غداری کے ذمرے میں آتا ہے۔ اور جنہوں نے ماضی میں منی لانڈرنگ کی اُن سے پیسہ نکلوانا چاہیے تاکہ ملک کی اکانومی کو ریلیف مل سکے۔

Be the first to comment on "منی لانڈرنگ کی سزا موت سے کم کیوں؟ علی احمد ڈھلوں"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*