شہباز کرے فریاد! علی احمد ڈھلوں

تلخیاں
شہباز کرے فریاد!
علی احمد ڈھلوں
فرض کریں کہ میں سیاستدان ہوں…. تویقینا میرا کام عوام کی خدمت ہونا چاہیے….
میرا عزم ملک کی بہتر ی ہونا چاہیے…. میرا پختہ یقین اس ملک کا آئین ہونا چاہیے….
میری فکر وطن عزیز کے مسائل ہونے چاہیے….
میری لگن اس ملک کے بچوں کے ساتھ ہونی چاہیے…. میرا ایمان اس ملک کے سرحدوں کی حفاظت ہونی چاہیے…. میری وفا میری فوج کے ساتھ ہونی چاہیے…
. میرا ضمیر میرے وطن کا شاخسانہ ہونا چاہیے…. عوام کے پیسوں کی حفاظت میرا کارنامہ ہونا چاہیے….
شفافیت میرے خون میں ہونی چاہیے….
اگر امانت میں خیانت کروں تو مجھے یقینا سزا بھی ہونی چاہیے….
لیکن یہ کیا ،پاکستان میں تو سب کچھ اُلٹ چلتا ہے یعنی مذکورہ بالا آپ تمام نکات کے ساتھ ”نہیں “ جوڑ دیں تو آپ پر واضع ہو جائے گا کہ یہاں کے سیاستدان کیا کرتے آئے ہیں….
میں آج کل امریکا میں پاکستان کی ”گھناﺅنی سیاست“ سے بہت دور فیملی کے ساتھ چند چھٹیاں گزارنے کی غرض سے موجود ہوں….
پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات دیکھ کر یہاں بیٹھ کر بھی اتنی ہی تکلیف ہو رہی ہے جتنی پاکستان میں ہوتی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں شہباز شریف عرف سابق خادم اعلیٰ کو نیب نے گرفتار کیا تو ایسے لگا جیسے پاکستانی میڈیا میں بھونچال سا آگیا….
بندہ پوچھے کوئی بات نہیںعوامی عہدے رکھنے والے ہی اداروں کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ شہباز شریف 10سال تک پنجاب کے لگاتار وزیر اعلیٰ رہے بیشتر پراجیکٹس شروع کیے، اب اگر شفافیت کے لیے نیب نے انہیں چند دن اپنے پاس رکھا ہے تو اس میں قیامت تو نہیں آجانی چاہیے۔ ویسے بھی اگر انہوں نے دھیلے کی کرپشن نہیں کی تو انہیں پریشانی کس بات کی ہے؟ اللہ کرے دس دن بعد وہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ لے کر باہر آئیں اور سیاست میں مزید ترقی پائیں۔ ورنہ بقول شاعر
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
شہباز شریف ہمیشہ ہربات پر فرماتے تھے: دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو مجھے لٹکا دیں۔ واقعی ایک دھیلے کی کرپشن نہ تھی، یہ کچھ زیادہ دھیلوں کی نکلی۔ صاف پانی پراجیکٹ میں چار ارب روپے بیوروکریسی اور شہباز شریف نے پھونک ڈالے۔ پانی کی ایک بوند نہ گری۔پراجیکٹ بہاولپور میں شروع ہونا تھا، چار ارب روپے بابوز نے لاہور میں خرچ کر ڈالے۔ شہباز شریف صاحب کے بچے تو بچے، داماد بھی اس کھیل میں شریک ہوئے۔ علی عمران نے صاف پانی پروجیکٹ کیلئے اپنی عمارت کرائے پر دے کر کروڑوں روپے کا ایڈوانس لیا، اور چند دن بعد دفتر خالی کر دیا گیا۔بقول شاعر
ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا
اور جب پھر سابق خادم اعلیٰ کی پہلی پیشی کے موقع پر نیب کورٹ میں جو ادھم مچتے دیکھا یقین مانیں بکتر بند گاڑی پر چڑھتے جیالوں، متوالوں، پٹواریوں اور موقع پرستوں نے تو دل جیتنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی وہ تو اچھا ہوا کہ عین وقت پر پولیس نے گریبانوں سے پکڑ کر نیچے گھسیٹاتو ہوش آیا کہ دھواں وہیں سے نکلتا ہے جہاں آگ لگی ہوتی ہے۔ اورضروری نہیں کرپشن روپے پیسوں کی ہو، کیا اختیارات کا غلط استعمال کرپشن نہیں؟ اختیارات کا بے دریغ استعمال کرپشن نہیں؟ ہر منصوبے کے SOP,sپورے نہ کرنا کرپشن نہیں؟ ہم اس ریاست کے باشندوں کے ذہنوں کو تعلیم کی دولت نہیں دے سکے کیا یہ کرپشن نہیں؟ انہیں صحت کی سہولیات نہیں دے سکے کیا یہ کرپشن نہیں؟ انہیں روزگار کا تحفظ نہیں دے سکے،کیا یہ کرپشن نہیں؟ کرپشن کا مطلب ہے ایسی خرابی جس سے پورا نظام اتھل پتھل ہو جائے۔ کمپیوٹر استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ سسٹم کرپٹ ہونے سے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تو”کرپشن“ کا مفہوم ناجائز ذرائع سے دولت کمانے تک محدود نہیں۔ اگر”کرپشن“دور کرنا ہے تو سسٹم میں موجود”کرپشن“ کی درست نشاندہی کرنا ہو گی۔ آخر کوئی وجہ تو ہے کہ دوسری قومیں ترقی کر رہی ہیں اور ہمارے دھان سوکھے ہیں۔ہمارے سسٹم کی کرپشن یہ ہے کہ ہم حقائق کی پیچیدگی کا ادراک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں سیاسی قائدین پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، انہیں گرفتار بھی کیا جاتا ہے، اور کرپشن ثابت ہونے پر سزائیں بھی ہوتی ہیں مگر اُن کی ترقی کا پہیہ کبھی نہیں رکتا۔
ؒلیکن یہاں یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ آج تک کبھی کسی بڑے آدمی کو سزا نہیں ہوئی۔ موجودہ حکومت نے بھی بہت بڑے بڑے دعوے کیے کہ ان کرپٹ عناصر سے پیسہ وصول کرکے ملک پر قرضوں کا بوجھ کم کیا جائے گا مگر یہاں ریکوری کا تناسب فی الحال زیرو ہے۔ ڈاکٹر عاصم کی مثال لے لیں 450ارب کی کرپشن کا الزام لگا مگر کچھ حاصل نہیں ہوا، شرجیل میمن ، ماڈل ایان علی، اسحاق ڈار، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، آصف علی زرداری اور بہت سے سیاستدانوں پر اربوں کے کرپشن کے الزامات ہیں لیکن آج تک ان سے کچھ ریکور نہ ہو سکا۔ اور اب اگر شہباز شریف پر نیب نے ہاتھ ڈالا ہے تو یقینا نیب کو ثابت بھی کرنا چاہیے کہ اُنہوں نے کہاں کہاں کرپشن کی۔ مفروضوں پر بات نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ نواز شریف کے کیس میں پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نیب کو کافی حدتک لتاڑ چکی ہے۔ اور یہ تو سارے شہر کو علم ہے کہ میٹرو پراجیکٹس میں کیا ہوا ہے، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں کیا ہوا ہے، لیپ ٹاپ سکیم میں کیا ہوا ہے؟ 56کمپنیاں کس نے بنائیں، دانش سکولوں میں کرپشن کا سب کو علم ہے،سستی روٹی سکیم کو بھی نہ چھوڑا گیا، حتیٰ کہ کرپشن چھپانے کے لیے سب ریکارڈ جلا دیے گئے۔ اور اگر اب بھی نیب کرپشن ثابت کرنے میں ناکام رہی اور ثبوتوں کو اکٹھا نہ کر سکی یا گواہوں کی حفاظت نہ کر سکی تو یقینا اس قوم کے لیے پھر مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ انہی کی بدولت پاکستان کے تمام اداروں کی صورتحال شرمناک رہی لیکن شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، جنہیں ٹھیک ہونے میں عرصہ لگ سکتا ہے۔ بجٹ میں صوبوں کے لئے اربوں روپیہ مختص کیا جاتا رہا لیکن پورے ملک میں غریب کا بچہ صاف پانی پینے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ جو حکومتیں سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر رہیں، ان لوگوں کو واقعی طوق پہنا دینا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے بیوروکریسی میں سسٹم کو فالو نہ کرکے اور شخصیات کو پروان چڑھا کر اداروں کو کمزور کرنے کی بنیاد ڈالی ہے۔ جس پر پوری قوم اور نئی حکومت سر پکڑ کر بیٹھی ہے۔
یہ چند اشارے ہیں جن کی بنیاد پر سابق حکمران مسائل کی دلدل میں اللہ توکل ہی پھنستے جا رہے ہیں اور قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شہباز شریف پر لگائے جانے والے الزامات میںموصوف نے غیرقانونی طورپرٹھیکہ پی ایل ڈی سی کو دیا، ٹھیکہ پیراگون کودلوانے کے بعدمعاملہ پی ایل ڈی سی کے حوالے کیا گیا،پی ایل ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بائی پاس کیا گیا،ہاو ¿سنگ اسکیم کوپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بنانے کیلئے غیرقانونی اقدامات کئے، 2013 میں شہبازشریف نے لطیف اینڈسنز کیساتھ ٹھیکہ منسوخ کیا، شہباز شریف نے آشیانہ ہاو ¿سنگ کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا، ایل ڈی اے منصوبہ مکمل نہ کر سکا، خزانے کو 71 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا، شہباز شریف نے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجینئر سروس کو دیا، ایم ایس انجینئرکنسٹلنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں ٹھیکہ دیا گیا۔صاف پانی کے بعد اگر آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کی بات کی جائے تو قومی احتساب بیورو نے گزشتہ سال نومبر میں آشیانہ ہاوسنگ سوسائٹی کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھیں جب ان کے پاس متاثرین کی جانب سے متعدد شکایت آئی تھیں کہ 3000 کنال کی سرکاری اراضی پر غیر قانونی معاہدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری شکایت بولی لگانے والی کمپنی کے حوالے سے تھی جب اس سال شہباز شریف سے جنوری میں نیب نے سوالات کیے تھے کہ حکومت نے آشیانہ سوسائٹی کے لیے کامیاب بولی لگانے والی کمپنی سے معاہدہ واپس لے کر ایک دوسری کمپنی کو کیسے دے دیا تھا؟ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ اور شہباز شریف کے قریب سمجھے جانے والے سرکاری افسر احد چیمہ بھی گرفتار کیے گئے تھے اور نیب کی تفتیش کے بعد اب وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم سکینڈل میںگرفتار آفیسراحد چیمہ کے بھائی سعید چیمہ اور بہن سعدیہ منصور بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے، قومی خزانے کو تینوں بہن بھائیوں نے 455ملین روپے کا ٹیکہ کیسے لگایا۔ اب آشیانہ ہاو ¿سنگ سکینڈل کیس میں فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریری بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ شہباز شریف کے کہنے پر کیا۔
جب اس قدر الزامات ہوں تو کوئی یہ کہے کہ شہباز شریف کو ضمنی الیکشن سے پہلے گرفتار کرنا قابل مذمت ہے ، یا یہ کہے کہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے سٹاک مارکیٹ گر گئی ہے، یا یہ کہے کہ عالمی دنیا پاکستان کے بارے میں کیا کہے گی، یا یہ کہے کہ چین شہباز سپیڈ کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے، یا یہ کہے کہ شہباز کی پرواز کو بیرونی طاقتوں نے روک دیا ہے ۔ تو پھر یقینا ایسے اشخاص کی پاکستان کے لیے نیت پر شک کیا جانا ضروری ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ کرپشن ہی ہے جس نے شہباز کی پرواز کو فریاد میں بدل ڈالا ہے!

Be the first to comment on "شہباز کرے فریاد! علی احمد ڈھلوں"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*