ساہیوال میں غریب اورنچلے متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے والا میٹرنٹی ہسپتال تباہی کے دہانے پر

ساہیوال میں غریب اورنچلے متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے والا میٹرنٹی ہسپتال تباہی کے دہانےپر

ساہیوال میں غریب اورنچلے متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے والا میٹرنٹی ہسپتال تباہی کے دہانے پر
،سفارشی ایڈمنسٹریٹر مریضوں کی جانوں کیلئے خطرہ بن گیا،غیر معیاری ادویات کی مہنگے داموں خریداری،رشتہ داروں کے مالی مفادات کا تحفظ روزمرہ کا معلوم بن گیا،شہبازشریف کے دست راست نسیم صادق کے بھائی پتھر کے تاجر نفیس صادق کو نوازنے کیلئے قدیم ترین ہسپتال کا ایڈمنسٹریٹر مقررکردیاگیا،اقرباء پروری کی نت نئی داستانیں رقم ہونے لگیں،ساہیوال میں غریب اورنچلے متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے والا میٹرنٹی ہسپتال ایک بارپھر زوال کا شکارہے،شہر کے وسط میں واقع سلورجوبلی میٹرنٹی ہسپتال گزشتہ چاردہائیوں سے بے آسرا چلاآرہاہے،سابق ڈی سی او ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے میٹرنٹی ہسپتال کی حالت زارکا نوٹس لیتے ہوئے دنیاکی دس بہترین یونیورسٹیوں میں شمارہونیوالی ہارورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ثاقب علی عطیل کو میٹرنٹی ہسپتال کاایڈمنسٹریٹر مقررکرتے ہوئے اصلاح احوال کا ٹاسک دیا،ثاقب علی عطیل نے درد دل رکھنے والے ماہر تعلیم پروفیسر قمرالزماں خان،شیخ محمد افضل ،حاجی احسان الحق ادریس،میاں نوید مشتاق فرشتہ، ڈاکٹرشہزادطاہر،ضیاء الرحمن خان ودیگر کے تعاون سے تھوڑے ہی عرصہ میں ہسپتال کو شہر کے سب سے بہترین ہسپتال کے مقام پرپہنچا دیا،جہاں دن رات جوڑے موج مستیوں میں مگن پائے جاتے تھے وہاں صحت کی بہترین سہولیات نہایت ارزاں نرخوں پر عام شہریوں کو ملنا شروع ہوگئیں ،میٹرنٹی ہسپتال میں مالی مفادات کا کھیل کھیلنے والوں نے ایک گھٹیاسازش کی جس کے نتیجہ میں ثاقب علی عطیل نے احتجاجاََاستعفیٰ دے دیا،نئے آنے والے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر شہزاد طاہر نے دن رات بلا معاوضہ خدمات کی ایک نئی داستان رقم کرتے ہوئے ہسپتال میں کے معیار کو مزید بہتر کیا،بالآخر سازشی عناصر ایک بارپھر متحرک ہوئے اورڈاکٹر شہزاد طاہر بھی مستعفی ہوکر چلے گئے،ڈاکٹر عاصم اکرام ایڈمنسٹریٹر بنے مگروزیراعلیٰ شہبازشریف کے دست راست نسیم صادق کے بھائی نفیس صادق کی بے جا مداخلت کی وجہ سے ایڈمنسٹریشن چھوڑنے پرمجبورہوگئے ،ایک بارپھر ڈاکٹر نصرت اقبال ایڈمنسٹریٹربنادیئے گئے ،ڈاکٹر شہزاد طاہر کے دورمیں نفیس صادق کے ایک دوست کی فرم البرکت میڈی ایکوپمنٹ سے ہسپتال کیلئے قیمتی آلات خریدے گئے جوناکارہ ثابت ہوئے جن کا بل روک لیاگیا،نسیم صادق کے نام پرنفیس صادق نے دباؤ ڈالتے ہوئے البرکت میڈی ایکوپمنٹ کا بل پاس کروالیا،بعدازاں نصرت اقبال نے بھی ایڈمنسٹریشن چھوڑنے میں عافیت جانی،اب پتھر کا کاروبارکرنے والے نفیس صادق کو ہسپتال کا ایڈمنسٹریٹر بنادیا گیا جنہیں بادل،ٹوئیرا،بوٹی سینا،گرینائیٹ کاتوعلم ہے مگراسپرین اورپیراسیٹامول بارے بنیادی معلوما ت بھی نہیں رکھتے ،ہسپتال میں مریضوں کے آپریشن کیلئے جس فرم سے سستے داموں معیاری ادویات کی خریداری کا کنٹریکٹ کیاگیا تھا سابق ڈپٹی کمشنر شوکت علی خاں کھچی نے نسیم صادق کے دباؤ پر اس کا کنٹریکٹ کو بلاوجہ سردخانے کی زینت ہوئے نفیس صادق سے تعلق رکھنے والے ایک مخصوص برادری کے فرد سے زائد نرخوں پر خریداری کا حکم دیدیا،آج میٹرنٹی ہسپتال نفیس صادق کے ذاتی مفادات اورانا کے ہاتھوں ایک بارپھر تباہی سے دوچارہے ،مریضوں کو گھٹیاادویات مہنگے داموں ایک مخصوص سٹورسے خریدنے پر مجبور کیا جارہاہے ،3500روپے میں ملنے والا پیکج 5000روپے سے زائد پر خریدکروایا جارہاتھا۔عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنرمیاں محمد زمان وٹو سے کسی پروفیشنل ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے ۔

Be the first to comment on "ساہیوال میں غریب اورنچلے متوسط طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے والا میٹرنٹی ہسپتال تباہی کے دہانے پر"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*